​Sleep in France, Wake Up in Switzerland!

Sleep in France, Wake Up in Switzerland!

One Bed, Two Countries:Hotel Arbez

یہ دلچسپ معلومات بالکل سچ ہیں! جس جگہ کا ذکر کر رہے ہیں وہ فرانس اور سوئٹزرلینڈ کی سرحد پر واقع ایک تاریخی اور منفرد ہوٹل جس کا نام
ہوٹل اربیز فرینکو سوئس” ہے۔”
(Hotel Arbez Franco-Suisse)

آئیے اس خبر کے مزید دلچسپ حقائق، تاریخی پس منظر  کے ساتھ ایک تفصیلی  نیوز    دیکھتے ہیں

 ایک ایسا ہوٹل جہاں سوتے ہوئے سر فرانس میں اور ٹانگیں سوئٹزرلینڈ میں ہوتی ہیں!
یورپ کے خوبصورت پہاڑی سلسلے جورا (Jura Mountains) کے ایک چھوٹے سے گاؤں “لا کیور” (La Cure) میں ایک ایسا انوکھا ہوٹل موجود ہے، جو بیک وقت دو ملکوں—فرانس اور سوئٹزرلینڈ—میں واقع ہے۔ اس ہوٹل کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ بین الاقوامی سرحد کسی چیک پوسٹ پر نہیں بلکہ اس ہوٹل کے کمروں، بستروں اور ڈائننگ ہال کے بالکل بیچ سے گزرتی ہے۔
 ایک ہی بستر پر دو ملک: کروٹ بدلیں تو ملک بدل جائے
اس ہوٹل کے ہنی مون سویٹ (Honeymoon Suite) میں موجود بستر کو بین الاقوامی سرحد بالکل درمیان سے کاٹتی ہے۔ یعنی اگر آپ اس بیڈ پر سو رہے ہیں، تو تکنیکی طور پر آپ کا سر سوئٹزرلینڈ میں اور ٹانگیں فرانس میں ہو سکتی ہیں، یا محض ایک کروٹ لے کر آپ بغیر پاسپورٹ کے فرانس سے سوئٹزرلینڈ میں داخل ہو سکتے ہیں!
صرف یہی نہیں، ہوٹل کے ایک کمرے (کمرہ نمبر 12) کی صورتحال تو اور بھی دلچسپ ہے؛ اس کا پورا کمرہ سوئٹزرلینڈ کی حدود میں آتا ہے لیکن اس کا واش روم فرانس میں ہے۔ چنانچہ مہمانوں کو باتھ روم جانے کے لیے بھی ایک ملک سے دوسرے ملک کا سفر کرنا پڑتا ہے۔
 یہ انوکھا ہوٹل کیسے بنا؟ (تاریخی پس منظر)
یہ کہانی سنہ 1862 کی ہے جب فرانس اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان ایک سرحدی تنازع کو حل کرنے کے لیے    (Treaty of Dappes)   
 

        معاہدہ دپیس

 طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ملکوں نے کچھ زمین کا تبادلہ کیا، جس سے سرحد کی لکیر بدل گئی۔
معاہدے میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ جو عمارتیں سرحد کی زد میں آئیں گی، انہیں مسمار نہیں کیا جائے گا۔
ایک ہوشیار مقامی تاجر “مسٹر پونتھس” (Monsieur Ponthus) نے اس لچک کا فائدہ اٹھایا۔ معاہدے پر دستخط ہونے اور اس کے باقاعدہ لاگو ہونے کے درمیانی چند مہینوں میں اس نے جادوئی رفتار سے اس زمین پر ایک تین منزلہ عمارت کھڑی کر دی جہاں سے نئی سرحد گزرنی تھی۔ بعد میں سنہ 1921 میں، “جولز جین اربیز” نامی شخص نے اسے خریدا اور ایک شاندار ہوٹل میں تبدیل کر دیا، جو آج بھی ان کی چوتھی نسل چلا رہی ہے۔
 دوسری جنگِ عظیم کا حیرت انگیز واقعہ
دوسری جنگِ عظیم کے دوران جب نازی جرمنی نے فرانس پر قبضہ کر لیا، تو سوئٹزرلینڈ ایک غیر جانبدار (Neutral) ملک تھا۔ جرمن فوجی اس ہوٹل کے فرانسیسی حصے میں تو آ سکتے تھے لیکن سوئس حصے میں قدم رکھنے کی انہیں اجازت نہیں تھی۔
**سرحد کا جادو:** ہوٹل کی سیڑھیاں فرانس سے شروع ہوتی تھیں لیکن ساتویں سیڑھی کے بعد وہ سوئٹزرلینڈ کی حدود میں داخل ہو جاتی تھیں۔ چونکہ جرمن فوجی اوپر کی منزل پر نہیں جا سکتے تھے، اس لیے ہوٹل کی اوپر والی منزل فرانسیسی مزاحمتی تحریک (French Resistance) کے رہنماؤں اور نازیوں سے جان بچا کر بھاگنے والے مظلوم پناہ گزینوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بن گئی تھی۔

 کھانا بھی دو ملکوں کا!
اگر آپ ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں بیٹھتے ہیں تو وہاں بھی سرحد کی لکیر فرش پر واضح دیکھی جا سکتی ہے۔
**فرانسیسی سائیڈ:** اگر آپ فرانس کی طرف بیٹھے ہیں، تو آپ کو روایتی فرانسیسی پکوان پیش کیے جاتے ہیں۔
**سوئس سائیڈ:** اگر آپ چند انچ دور سوئٹزرلینڈ کی طرف بیٹھے ہیں، تو وہاں کے مقامی پنیر (Fondue) اور ہلکے روایتی کھانے دستیاب ہوتے ہیں۔
ٹیکس کے معاملے میں بھی یہ ہوٹل انوکھا ہے؛ ہوٹل انتظامیہ دونوں ملکوں کی حکومتوں کو برابر کا ٹیکس ادا کرتی ہے۔ چونکہ اب دونوں ممالک “شینگن زون” (Schengen Area) کا حصہ ہیں، اس لیے یہاں آنے والے سیاحوں کو کسی ویزا یا پاسپورٹ چیکنگ کی فکر کیے بغیر اس انوکھے جغرافیائی تجربے سے لطف اندوز ہونے کی مکمل آزادی ہے۔

Click For More…………

DIY Korean Glass Skin Remedies for Natural Glow

Turmeric Face Pack Benefits for Glowing Skin

1 thought on “​Sleep in France, Wake Up in Switzerland!”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *