Why Kim Jong Un never talks about his mother

Why Kim Jong Un never talks about his mother!

کم جونگ اُن کی ماں کا وہ راز جس کا ذکر شمالی کوریا کبھی نہیں کرتا

دنیا کے طاقتور ترین حکمرانوں میں شمار ہونے والے شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن نے آج تک اپنی والدہ کا نام عوامی طور پر کبھی نہیں لیا۔ اس کے پیچھے ایک ایسا راز چھپا ہے جسے اگر دنیا پوری طرح جان لے تو شاید شمالی کوریا کے حکمران خاندان کی بنیادیں ہل جائیں۔

شمالی کوریا ایک ایسا ملک ہے جہاں حکومت صرف عوام ہی نہیں بلکہ تاریخ، معلومات اور حتیٰ کہ حکمران خاندان کی کہانیوں پر بھی مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔ وہاں کون سی خبر عوام تک پہنچے گی، کون سا واقعہ تاریخ کا حصہ بنے گا اور کس شخصیت کا ذکر کیا جائے گا، یہ سب حکومت طے کرتی ہے۔

لیکن ان سب کے درمیان ایک سوال آج بھی دنیا کے لیے معمہ بنا ہوا ہے: آخر کم جونگ اُن کی والدہ کون تھیں؟ اور ان کا ذکر کرنا حکومت کے لیے اتنا حساس کیوں ہے؟


کو یونگ ہوئی — وہ نام جو چھپا دیا گیا

کم جونگ اُن کی والدہ کا اصل نام کو یونگ ہوئی تھا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ شمالی کوریا میں ان کا اصل نام عوامی سطح پر تقریباً کبھی استعمال نہیں کیا گیا۔ حکومت انہیں صرف سرکاری القابات سے یاد کرتی ہے جیسے “عظیم ماں” یا “محترم والدہ”۔

کو یونگ ہوئی 26 جون 1952 کو جاپان کے شہر اوساکا میں پیدا ہوئیں۔ یہی حقیقت شمالی کوریا کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن گئی کیونکہ شمالی کوریا کی سیاست اور نظریہ ہمیشہ جاپان مخالف جذبات پر قائم رہا ہے۔

ان کے والد ایک ایسے کوریائی خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو جاپان میں رہتا تھا۔ بعد میں وہ اپنے خاندان سمیت شمالی کوریا منتقل ہو گئے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق ان کے والد پر اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزامات بھی لگے تھے۔

شمالی کوریا کے سخت نظام میں یہ پس منظر کسی بھی شخص کے لیے ایک کمزور حیثیت سمجھا جاتا تھا، خاص طور پر ایسے ملک میں جہاں خاندانی پس منظر کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔


Why Kim Jong Un never talks about his mother?
Why Kim Jong Un never talks about his mother?

ایک رقاصہ جس نے کم جونگ اِل کو متاثر کیا

جوانی کے دنوں میں کو یونگ ہوئی نے شمالی کوریا کے مشہور مانسوڈے آرٹ ٹروپ میں شمولیت اختیار کی۔ یہ ادارہ شمالی کوریا کے بہترین فنکاروں اور رقاصاؤں کے لیے جانا جاتا تھا۔

اسی دوران ان کی ملاقات کم جونگ اِل سے ہوئی، جو اس وقت اپنے والد کم اِل سنگ کے بعد اقتدار سنبھالنے کی تیاری کر رہے تھے۔

رپورٹس کے مطابق کم جونگ اِل کو کو یونگ ہوئی کی شخصیت اور خوبصورتی نے بہت متاثر کیا۔ آہستہ آہستہ دونوں کے تعلقات مضبوط ہوئے اور کو یونگ ہوئی شمالی کوریا کے طاقتور ترین خاندان کا حصہ بن گئیں۔

ان کے تین بچے ہوئے:

  • کم جونگ چُل
  • کم جونگ اُن
  • کم یو جونگ

آج کم جونگ اُن شمالی کوریا کے سپریم لیڈر ہیں جبکہ ان کی بہن کم یو جونگ دنیا کی بااثر ترین خواتین میں شمار کی جاتی ہیں۔


شمالی کوریا کا خفیہ طبقاتی نظام

شمالی کوریا میں ایک خاص سماجی نظام موجود ہے جسے “سونگ بُن” کہا جاتا ہے۔ اس نظام کے تحت ہر شہری کو اس کے خاندانی پس منظر اور حکومتی وفاداری کے مطابق درجہ دیا جاتا ہے۔

جن لوگوں کا تعلق جاپان، جنوبی کوریا یا بیرونی دنیا سے رہا ہو، انہیں اکثر کم درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔

اسی وجہ سے کو یونگ ہوئی کا جاپان میں پیدا ہونا شمالی کوریا کے حکمران خاندان کے لیے ایک حساس معاملہ بن گیا۔

ماہرین کے مطابق اگر عوام کو مکمل حقیقت معلوم ہو جائے تو یہ شمالی کوریا کے اس نظریے کو نقصان پہنچا سکتا ہے جس کے تحت حکمران خاندان کو “خاص اور مقدس خون” کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔


“پیکٹو بلڈ لائن” کا نظریہ

شمالی کوریا کی حکومت اپنے حکمران خاندان کو “پیکٹو بلڈ لائن” سے جوڑتی ہے۔ یہ ایک ایسا نظریہ ہے جس کے مطابق کم خاندان ایک مقدس انقلابی نسل سے تعلق رکھتا ہے جسے حکومت کرنے کا حق حاصل ہے۔

حکومتی پروپیگنڈا ہمیشہ یہی ظاہر کرتا آیا ہے کہ یہ خاندان مکمل طور پر خالص اور انقلابی نظریات کا حامل ہے۔

لیکن اگر عوام کو یہ معلوم ہو کہ کم جونگ اُن کی والدہ جاپان میں پیدا ہوئیں اور ان کا خاندان متنازع پس منظر رکھتا تھا تو حکومت کے اس بیانیے کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔

اسی وجہ سے حکومت نے برسوں تک ان کی اصل شناخت کو عوام سے دور رکھا۔


The Secret Kim Jong Un Will Never Speak: His Mother's Forbidden Past
The Secret Kim Jong Un Will Never Speak: His Mother’s Forbidden Past

کم جونگ اُن اور ان کی والدہ کا تعلق

رپورٹس کے مطابق کم جونگ اُن اپنی والدہ کے بہت قریب تھے۔ کہا جاتا ہے کہ کو یونگ ہوئی اپنے بچوں کی تعلیم اور تربیت پر خاص توجہ دیتی تھیں۔

انہوں نے اپنے بچوں کو جاپانی اور کوریائی ثقافت دونوں سے متعارف کروایا۔ کم جونگ اُن نے اپنی ابتدائی تعلیم کا کچھ حصہ سوئٹزرلینڈ میں بھی حاصل کیا، جہاں ان کی خالہ ان کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔

یہ تمام باتیں شمالی کوریا کے سرکاری بیانیے سے کافی مختلف ہیں، اسی لیے حکومت ان معاملات پر زیادہ بات نہیں کرتی۔


بیماری اور موت

1990 کی دہائی کے آخر میں کو یونگ ہوئی کینسر کے مرض میں مبتلا ہو گئیں۔ علاج کے لیے انہیں فرانس بھی لے جایا گیا، لیکن بیماری زیادہ بڑھ چکی تھی۔

13 اگست 2004 کو وہ صرف 51 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

بعد میں کم جونگ اُن نے اپنی والدہ کی یاد میں ایک قبر تعمیر کروائی، جو ان کے وجود کے چند سرکاری ثبوتوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔


نئی کتاب اور نئے انکشافات

حال ہی میں ایک جاپانی صحافی نے کو یونگ ہوئی کی زندگی پر مبنی کتاب شائع کی جس میں ان کے خاندان اور ماضی سے متعلق کئی نئے دعوے کیے گئے۔

کتاب میں بتایا گیا کہ ان کے والد اسمگلنگ میں ملوث تھے اور اسی وجہ سے شمالی کوریا منتقل ہوئے تھے۔

ان انکشافات کے بعد ایک بار پھر دنیا بھر میں یہ سوال اٹھنے لگا کہ شمالی کوریا آخر اس خاندان کی حقیقت کو کیوں چھپاتا رہا ہے۔


حکومت کیوں خاموش ہے؟

شمالی کوریا کی حکومت جانتی ہے کہ حکمران خاندان کی طاقت صرف فوج یا ہتھیاروں سے نہیں بلکہ عوام کے ذہنوں میں قائم اس تصور سے بھی جڑی ہوئی ہے کہ یہ خاندان “خاص” ہے۔

اگر اس تصور میں دراڑ پڑ جائے تو حکومت کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔

اسی لیے کم جونگ اُن آج بھی اپنی والدہ کے اصل نام کا ذکر نہیں کرتے اور حکومت اس موضوع پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔


The Secret Kim Jong Un Will Never Speak: His Mother's Forbidden Past
The Secret Kim Jong Un Will Never Speak: His Mother’s Forbidden Past

نتیجہ

کو یونگ ہوئی کی کہانی صرف ایک خاتون کی زندگی کی کہانی نہیں بلکہ شمالی کوریا کے اس خفیہ نظام کی جھلک بھی ہے جہاں معلومات کو طاقت سمجھا جاتا ہے۔

ایک ایسی عورت جو جاپان میں پیدا ہوئی، شمالی کوریا کے طاقتور ترین خاندان کا حصہ بنی، تین اہم بچوں کی ماں بنی، لیکن پھر بھی تاریخ کے صفحات سے تقریباً مٹا دی گئی۔

آج بھی ان کا نام شمالی کوریا میں شاذ و نادر ہی لیا جاتا ہے۔ اور شاید یہی اس کہانی کا سب سے حیران کن پہلو ہے کہ دنیا کے طاقتور ترین حکمرانوں میں سے ایک شخص اپنی والدہ کا نام لینے سے بھی گریز کرتا ہے۔

کیونکہ بعض اوقات سچ اتنا خطرناک ہوتا ہے کہ طاقتور حکومتیں بھی اس سے خوفزدہ رہتی ہیں۔

 

people also like this..

​Sleep in France, Wake Up in Switzerland!

​Sleep in France, Wake Up in Switzerland!

Héctor Bello’s Wife Dies Saving Daughter in Earthquake

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *